کامیابی کو برقرار رکھنا- Business Ideas for Beginners

 یہ دنیا کاز اینڈ افیکٹ کے اصول پر چل رہی ہے جس طرح کامیابی کے اسباب ہوتےہیں اسی طرح ناکامی کے بھی اسباب ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ اچانک آتے ہیں اور چھا جاتےہیں لیکن کچھ ہی عرصہ بعد اسی طرح اچانک غائب ہو جاتےہیں ان کی کا میابی بلبلے کی طرح ہوتی ہے۔کامیاب ہونا آسان ہے لیکن کامیابی کو برقرار رکھنا مشکل ہے۔ کامیابی کے ملنے میں قسمت ہو سکتی ہے ، محنت ہو سکتی ہے ، کسی کی کوشش ہو سکتی ہے لیکن اس کامیابی کے بعد اس کو برقرار رکھنے میں ذاتی کردار ہوتا ہے جو کہ مشکل کام ہے۔ پہاڑ پر سب چڑھنا چاہتےہیں لیکن پہاڑ پر جو ہوائیں چلتی ہیں ان کا سامنا کوئی کوئی کرتا ہے ۔ انگلینڈ میں ان لوگو ں پر تحقیق کئی گئی جن کی لاٹری نکلتی ہے پتا چلا کہ کچھ سالوں بعد نوئے فیصد سے زائد لوگ پھر اسی حالت میں ہوتے ہیں ،لاٹری نکلنے کے بعد ملین ڈالرز کا ملنا اپنی جگہ لیکن ان ملین ڈالرز کو سنبھالنا اہم ہوتاہے ۔ کوئی بھی شخص کسی قسم کی گاڑی لے سکتا ہے لیکن اصل بات یہ ہوتی ہے کہ گاڑی چلانی آتی ہے کہ نہیں ، بعض لوگ گاڑی تو لے لیتے ہیں لیکن صحیح طریقے سے چلا نہ پانے کی وجہ سے نقصان کر بیٹھتے ہیں پھر یہی نقصان ان کے لیے ڈیپریشن بن جاتا ہے ۔
 برصغیر کی تہذیب میں ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں پر وجوہات ڈھونڈنا سیکھا یا ہی نہیں جاتا ۔ کامیابی آزادی دیتی ہے آزادی بگاڑ پیدا کرتی ہے اور بگاڑ کا م کے لیے بہت بری چیز ہے کیونکہ کام ڈسپلن سے ہوتاہے ۔ کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے ڈسپلن درکار ہوتا ہے کوئی بھی کامیاب شخص جو کام کرتا ہے اس کام کے پیچھے بڑی محنت ہوتی ہے، اسلوب ہوتا ہے بڑی ترتیب ہوتی پھر کامیابی ملتی ہے ۔ کامیابی کے بعد نام بنتا ہے، شہرت ہوتی ہے ، عزت ملتی ہے ، پیسہ آتا ہے ان سب چیزوں کے ملنے کے بعد اگلی چیز آزادی ہوتی ہے اور آزادی ملنے پر بگاڑ کے چانس بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ کامیابی محنت سے تو مل جاتی ہے لیکن اس کو کردار سے برقرار رکھنا پڑتا ہے ۔ایک ذاتی کردار ہوتاہے اور ایک پروفیشنل کردار ہوتا ہے، ذاتی کردار تو کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن پروفیشنل کردار میں ڈسپلن ہوتا ہے ، اگر کسی ادارے کے سربراہ کے پروفیشنل کردار میں ڈسپلن نہیں ہے تو وہ ڈنڈے کے زور سے اپنی ٹیم کو تو چلا لے گا لیکن ٹیم کو جہاں بھی موقع ملے گا وہ نقصان ضرور پہنچائے گی ۔ جو ادارے کردار پر چلتےہیں وہ زیادہ ترقی کر تےہیں ۔
 ہمارے معاشرے میں کسی چیز کے بننے، جڑنے اور چلنے میں کردار کی بہت کمی ہے دکھاوا زیادہ ہے ۔ ہمارے معاشرے میں پیکنگ کو دیکھ کر چیز کو خریدا جاتا ہے چیز کو دیکھ کرنہیں ، ہمارا معاشرہ پیکنگ سے انسپائر ہو تا ہے اندر کچھ دیکھتا ہی نہیں ہے جیسے ایک دوسرے کی شکل و صورت دیکھتے سے محبت ہوجاتی ہے اور پھر وہ محبت شادی میں بدل جاتی ہے لیکن جب ایک دوسرے کے کردار سے واقفیت ہوتی ہے تو نتیجہ ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے یعنی ظاہرکو دیکھا جاتا ہے جو مغز ہوتا ہے اس کو نہیں دیکھا جاتا، دکھاؤئے کی کامیابی سطحی ہوتی ہے اس کی جڑیں گہری نہیں ہوتیں جبکہ اصل کی جڑیں گہری ہوتی ہیں۔ کامیابی کوئی منزل یا مقام نہیں ہے بلکہ یہ ایک راستہ ہے ، کامیابی ایک منزل کو پانے کے بعد اگلی منزل کی طرف سفر ہے ۔ جو مزا کوشش میں ملتا ہے وہ مزا حاصل کرنے کے بعد نہیں ملتا ، دنیا کہتی ہے کہ اصل ہیرو وہ ہوتا ہے جو کامیاب ہوتا ہے لیکن حقیقت میں اصل ہیرو وہ ہوتا ہے جو ناکام ہوتا ہے کیونکہ اسے پتا ہوتا ہے کہ کامیابی کی قیمت کیا ہے۔



Comments

Popular posts from this blog

Best Business in Pakistan With Low Investment